سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام اور آئینی ترمیم کے مطالبات پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو صرف سیاسی تنہائی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک چار انتظامی اکائیوں کو سنبھالنے کے لیے کوشاں ہے اور ایم کیو ایم کے رہنما نئے صوبوں کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے نئے انتظامی صوبوں کے قیام کے لیے جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ شاہ فیصل ٹاؤن میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کی یہ جدوجہد مکمل طور پر آئین اور قانون کے دائرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے سے سندھ یا پاکستان تقسیم نہیں ہوتا بلکہ اس سے وفاق مزید مضبوط ہوتا ہے اور وسائل عام آدمی کی دہلیز تک پہنچتے ہیں۔