پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مونسون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے متعدد اہم علاقوں، انڈر پاسز اور شاہراؤوں پر تین سے چار فٹ تک پانی جمع ہو گیا ہے اور نظامِ زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔ پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران لاہور میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بارشوں کے اس رواں سپیل کے دوران پنجاب بھر میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔
بارش اور زیرِ زمین پانی کے دباؤ کے باعث کنال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیمکے وال چوک سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر 10 اسکوائر فٹ تک کے گہرے سنک ہولز (زمین دھنسنے کے واقعات) بن گئے ہیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ راستوں کو بند کر کے ٹریفک متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہے۔ ڈی ایچ اے، لکشمی چوک، مال روڈ اور چوبرجی سمیت 130 سے زائد مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ واسا اور ضلعی انتظامیہ نے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل فعال رکھنے اور ناشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کے دعوے کیے ہیں، تاہم رہائشیوں نے گلی محلوں اور گھروں میں پانی داخل ہونے پر شدید احتجاج کیا ہے۔