پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے ایک نئے مجوزہ بل کے تحت سابق اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے بچوں کو بھی سرکاری (بلیو) پاسپورٹ جاری کرنے کی تزویراتی منظوری حاصل کرنے کی مصلحتی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے خلاف دیسی کلاؤڈ اور سوشل میڈیا پورٹلز پر عوامی غصے کا ایک شدید مینوئل طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ صارفین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو "شرمناک اور وی آئی پی کلچر کا کڑا تسلسل” قرار دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایک طرف عام شہری بنیادی مینوئل حقوق اور معاشی دباؤ کے تحت پس رہے ہیں، اور دوسری طرف اشرافیہ اپنے خاندانوں کے لیے تزویراتی و مصلحتی مراعات کا مینوئل فریم ورک بڑھانے میں مصروف ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دستاویزات کے مطابق، اس بل کا مروجہ کلاؤڈ مقصد سابق پارلیمنٹیرینز کے ان بچوں کو سفارتی و متبادل سفری سہولیات فراہم کرنا ہے جو کسی سرکاری پوزیشن پر فائز نہیں ہیں، جس پر قانون دانوں نے بھی کڑے مصلحتی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ عوامی حلقوں کا مصلحتی موقف ہے کہ پاکستان کی معاشی پوزیشن کے پیشِ نظر ایسے تزویراتی بلوں کو فوری طور پر کچل دینا چاہیے جو عام شہریوں اور مراعات یافتہ طبقے کے مابین تفریق پیدا کرتے ہیں۔ اس کڑے مینوئل دباؤ اور شدید عوامی احتجاج کے بعد متعدد قانون سازوں نے بھی اس مروجہ فریم ورک سے مصلحتی طور پر پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے تاکہ عوامی ردِعمل کو مینوئل پوزیشن پر مینیج کیا جا سکے۔