روشنیوں کے شہر کراچی میں رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران اسٹریٹ کرائم اور اسنائپرز کی وارداتوں میں تشویشناک اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں مجموعی طور پر 24 ہزار 195 جرائم کے مقدمات درج کیے گئے۔
سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (CPLC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اور ہولناک اعداد و شمار کے مطابق، صرف مئی کے ایک مہینے میں شہر کے مختلف علاقوں میں 4 ہزار 671 اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں: گن پوائنٹ پر یا چوری کی نیت سے شہریوں کو 126 گاڑیوں اور 2 ہزار 685 موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا۔
موبائل فونز کی چھین جھپٹ: اسٹریٹ کرمنلز نے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالتے ہوئے 1 ہزار 860 قیمتی موبائل فونز چھین لیے۔
دیگر سنگین جرائم: سی پی ایل سی حکام کے مطابق خوش قسمتی سے مئی میں اغواء برائے تاوان کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا، البتہ بھتہ خوری (پرچی مافیا) کے 10 واقعات اور ایک بڑی بینک ڈکیتی رونما ہوئی۔
انسانی جانوں کا زیاں:
اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں امن و امان کی صورتحال اس حد تک ابتر ہو چکی ہے کہ صرف مئی کے 31 دنوں میں ڈکیتی مزاحمت، فائرنگ اور مختلف پرتشدد واقعات میں 56 بے گناہ شہری اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ شہریوں نے سندھ حکومت اور پولیس حکام سے شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔


