انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سندھ نے کراچی سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور کچے کے ڈاکوؤں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، عیدالاضحیٰ کے اہم دنوں میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سینٹرل پولیس آفس میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تمام زونل ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ روایتی پٹرولنگ کے ساتھ ساتھ اب مخبروں کے نیٹ ورک اور جدید ٹیکنالوجی (جیسے جیو فینسنگ اور لوکیشن ٹریکنگ) کی مدد سے جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے کیے جائیں۔ انہوں نے پولیس حکام کو حکم دیا کہ منشیات فروشوں، آن لائن ڈرگ سپلائرز اور اسٹریٹ کرمنلز کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹولرنس پالیسی اپنائی جائے اور عید کی چھٹیوں کے دوران شاپنگ سینٹرز، مویشی منڈیوں، بس ٹرمینلز اور شاہراہوں پر کمانڈوز کی تعیناتی بڑھائی جائے۔
آئی جی سندھ نے کچے کے علاقوں میں جاری ڈاکوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کا جائزہ لیتے ہوئے رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشنز کو مزید منظم کرنے پر زور دیا، تاکہ اندرونِ سندھ اور سرحدی راستوں کو تجارتی کارگو اور مسافروں کے لیے مکمل محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے پولیس افسران کو خبردار کیا کہ فرائض میں غفلت یا جرائم پیشہ عناصر سے کسی بھی قسم کی نرمی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


