خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے ایک پہاڑی علاقے میں نامعلوم مقام سے آپریٹ کیے جانے والے کواڈ کاپٹر ڈرون حملے کے نتیجے میں اسکول سے گھر واپس جانے والے دو معصوم بچے جاں بحق ہو گئے۔ مقامی باشندوں اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ باجوڑ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر خار سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع علاقے ‘شاہی تنگی’ میں دوپہر کے وقت پیش آیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ 10 اور 12 سال کی عمر کے دو سگے یا قریبی لڑکے اسکول کی چھٹی کے بعد گھر جا رہے تھے کہ اچانک ڈرون حملے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر دونوں زخمی بچوں کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال خار منتقل کیا، تاہم ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے دونوں بچوں کی موت کی تصدیق کر دی۔ ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ کواڈ کاپٹر کہاں سے اڑایا گیا تھا اور اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔ مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داران اور حملے کے محرکات کا پتا لگایا جا سکے۔ معصوم بچوں کی ہلاکت پر سیاسی و سماجی حلقوں اور پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی نے شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب، افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کے لواحقین نے مقامی انتظامیہ کی جانب سے واپسی کی یقین دہانی کے بعد طورخم بارڈر کی مرکزی شاہراہ پر جاری اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ گزشتہ سال اکتوبر سے سرحد کی بندش کے باعث 600 سے زائد ٹرانسپورٹرز اور سینکڑوں گاڑیاں افغان سرحد پر پھنسی ہوئی ہیں، جن کی بحالی کے لیے مقامی حکام اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے درمیان بات چیت جاری ہے


