اسلام آباد میں جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جہاں مختلف وفود سیرینا ہوٹل میں مسلسل مشاورت اور بات چیت میں مصروف دکھائی دیے۔ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے تک بھی ہوٹل میں روشنیاں جل رہی تھیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مذاکراتی عمل بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بار مذاکراتی عمل ماضی کے مقابلے میں زیادہ خفیہ رکھا گیا ہے، جہاں معلومات کے لیک ہونے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں اور دونوں جانب سے تفصیلات کو محدود رکھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے مذاکرات کی پیش رفت سے متعلق معلومات بھی محدود انداز میں سامنے آ رہی ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، تاہم بعد میں واضح ہوا کہ یہ دراصل ایک بریک آؤٹ سیشن کا اختتام تھا۔ اس دوران وفود نے الگ الگ گروپس میں مشاورت کی اور مختلف نکات پر تبادلہ خیال کیا، جس کے بعد دوبارہ فیس ٹو فیس مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریک آؤٹ سیشنز کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کی اور مختلف تجاویز پر غور کیا۔ بعد ازاں جب کچھ پیش رفت کے امکانات سامنے آئے تو وفود نے دوبارہ مشترکہ نشست کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات خطے کی سفارتی صورتحال میں اہم سمجھے جا رہے ہیں، جہاں مختلف حساس معاملات زیرِ غور ہیں۔ رات گئے تک جاری رہنے والی یہ سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ فریقین کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔


