وادیٔ تیراہ سے بے دخل کیے گئے خاندانوں نے اپنے گھروں میں واپسی اور حکومتی وعدوں کی تکمیل کے لیے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی علاقوں سے بے گھر ہو کر سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
وادیٔ تیراہ کے بے گھر افراد کا احتجاج، گھروں میں واپسی اور حکومتی وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی کرایہ اور ماہانہ امداد کے منتظر ہیں۔#Tirah #KhyberDistrict #DisplacedFamilies #PakistanNews #HumanRights #Protest #BreakingNews #KPNews #JusticeForTirah… pic.twitter.com/MYjR2LkVpK
— Bakhabar News (@bakhabarnews_) March 12, 2026
متاثرین کے مطابق انہیں بندوق کے زور پر اپنے گھروں سے نکالا گیا، جس کے بعد نہ صرف ان کی رہائش چھن گئی بلکہ ان کا روزگار، سکون اور زندگی کا سہارا بھی ختم ہو گیا۔ موجودہ مہنگائی اور بدامنی کے حالات میں یہ خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ صوبے کے وزیرِاعلیٰ سے لے کر پاکستان کے چیف جسٹس تک کا تعلق اسی خطے سے ہے، اس کے باوجود تیراہ کے عوام آج تک اپنے گھروں کو واپس جانے سے محروم ہیں۔
مظاہرین کے مطابق حکام کی جانب سے انہیں کرایہ، ماہانہ مالی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے تھے، تاہم وہ وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی ان امدادی رقوم کے منتظر ہیں۔
احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ان کے مسائل کا نوٹس لے اور انہیں اپنے گھروں میں واپس جانے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے۔


