پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت کئی قسم کے سنگین بحرانوں کی زد میں ہے اور وفاق پر سے صوبوں کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں اتفاقِ رائے نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اور وفاقیت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کا طوفان امڈ آیا ہے اور پچاس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، ایسے میں مہذب معاشروں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نیا مینڈیٹ حاصل کرتے ہیں لیکن یہاں عجیب تماشا ہے کہ خود حکمران نظام کے ناکارہ ہونے کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ضد بھی کی جاتی ہے کہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی، جبکہ حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی علاج کے لیے بھی ملک سے باہر بھاگتے ہیں۔ انہوں نے پمز اسپتال کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی تشکیل درست نہیں ہے اور اس سے کوئی نیک نیتی ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ بچوں کے جاں بحق ہونے پر حکمرانوں کے دلوں میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس بیان پر سخت حیرانی ہوتی ہے کہ "پنجاب کو پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ دیگر صوبوں سے آنے والی دہشتگردی سے خطرہ ہے”، یہ کیسا عقل اور فہم ہے، یہ بیان جلتی آگ پر تیل پھینکنے کے مترادف ہے اور انتہائی قابلِ مذمت ہے جسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کابینہ نے نئے صوبے بنانے کا کوئی باقاعدہ فیصلہ کیا ہے اور کیا پنجاب یا بلوچستان اسمبلی نے اس سلسلے میں کوئی بل منظور کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کی اپنی پارٹی پالیسی بھی اس معاملے پر بالکل خاموش ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے یہ حکمران اور طاقتور مافیا اپنے ذاتی اقتدار کو بچانے کے لیے آئین اور قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں، جہاں ایک طرف عوام مہنگائی اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، وہیں دوسری طرف نااہل حکمرانوں کا جاہلانہ رویہ، طاقتور اداروں کا گٹھ جوڑ اور پولیس کا ظالمانہ دباؤ غریب عوام پر مسلط کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی ان کے اس عوام دشمن نظام کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔