اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے ٹرمپ کا خطاب لائیو دکھانے سے انکار

امریکی میڈیا کے مروجہ کلاؤڈ اور تزویراتی منظرنامے پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جہاں ‘اے بی سی’ ، ‘این بی سی’ اور ‘سی این این’ جیسے بڑے اور مصلحتی امریکی ٹی وی چینلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی سیکیورٹی کے حوالے سے دیے جانے والے حالیہ اہم خطاب کو اپنے بنیادی اور مین اسٹریم چینلز پر لائیو نشر نہ کرنے کا کڑا مصلحتی فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کا متبادل موقف ہے کہ ماضی میں انتخابی عمل اور نظام پر اٹھائے جانے والے غیر تصدیق شدہ بیانات کے پیشِ نظر انہوں نے مینوئل پوزیشن پر براہِ راست نشریات کے متبادل مصلحتی پالیسی اپنائی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے گمراہ کن دعووں کے لائیو ابلاغ کو کچلا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی میڈیا کے اس اقدام کو مینوئل پوزیشن پر آزادیٔ اظہارِ رائے پر کڑی ضرب اور تزویراتی بائیکاٹ قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ چینلز مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کے تحت جان بوجھ کر صدارتی بیانیے کو دبا رہے ہیں اور عوام تک حقائق پہنچنے میں کڑی مصلحتی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینلز کی جانب سے براہِ راست کوریج روکنے اور بعد میں مینوئل فریم ورک کے تحت فیکٹ چیک (Fact Check) کے ساتھ نشر کرنے کے اس متبادل اقدام نے صدارتی مہم اور کارپوریٹ میڈیا کے مابین جاری تزویراتی تصادم کو ایک نئے کڑے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے