برطانوی شاہی خاندان کے متنازع رکن پرنس اینڈریو (سابق ڈیوک آف یارک) کے حالیہ اقدامات اور ان سے جڑے اسکینڈلز نے ان کی بیٹیوں، شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوژینی کو ایک بار پھر شدید عوامی اور شاہی دباؤ کے تحت ایک کڑی اخلاقی و سماجی مشکل میں دھکیل دیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس اور آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ شاہی محل (رائل لاج) سے بیدخل کیے جانے کے بعد پرنس اینڈریو متبادل مالی منافع کے لیے وہاں موجود املاک کو غیر قانونی طور پر سب لیٹ (کرائے پر دینے) جیسے اقدامات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس تزویراتی انکشاف کے بعد دونوں بہنوں کے لیے شاہی خاندان میں اپنے مروجہ کلاؤڈ اور وقار کو برقرار رکھنا مینوئل پوزیشن پر ایک کڑا فریم ورک چیلنج بن گیا ہے۔
مزید برآں، قومی آڈٹ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ غیر فعال شاہی اراکین ہونے اور نجی ملازمتیں کرنے کے باوجود ان دونوں بہنوں کے محلات میں شاہی رہائش گاہوں کا بھاری کرایہ شاہ چارلس اپنے نجی فنڈز سے ادا کر رہے ہیں، جس پر برطانوی عوام میں شدید مصلحتی غصہ اور دباؤ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب، ایپسٹین اسکینڈل کے مروجہ کلاؤڈ کے باعث پرنس اینڈریو اور ان کی سابقہ اہلیہ سارہ فرگوسن کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور مبصرین کا ماننا ہے کہ والدین کے ان کڑے تنازعات میں متبادل طور پر شامل ہونا یا ان کا مینوئل دفاع کرنا دونوں شہزادیوں کے اپنے مستقبل اور شاہی پوزیشن کو مستقل طور پر کچل سکتا ہے، جس نے انہیں ایک لایعنی الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے۔