رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے محاذ پر جاری شدید کشیدگی کے مابین اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے تہران کے اعلیٰ ترین حکام کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے ایرانی قیادت کو مینوئل طور پر ‘ختم’ کرنے کی سخت دھمکی دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے مروجہ تند و تیز بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے تل ابیب یا اسرائیلی مفادات پر کسی بھی قسم کی متبادل تزویراتی کارروائی کی گئی، تو اسرائیل اس کا جواب ایرانی رہنماؤں کی مینوئل ہلاکت کی صورت میں دے گا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری ہائی الرٹ صورتحال، بالخصوص ایران کے سپریم لیڈر کی حالیہ تدفین کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ مروجہ خونی بیان خطے کے امن کو متبادل طور پر مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ تہران کی جانب سے اس مینوئل دھمکی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ایرانی عسکری حکام نے بھی کسی بھی ممکنہ اسرائیلی مہم جوئی کے خلاف کڑے اور منہ توڑ متبادل جواب کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین براہِ راست تصادم کا دباؤ مروجہ طور پر انتہا کو پہنچ گیا ہے۔