چاہتا تو خامنہ ای کے جنازے کے تمام شرکاء کو ختم کر سکتا تھا، ٹرمپ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی لرزہ خیز اور مصلحتی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو ایران کے جاں بحق ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شریک تمام افراد کو مینوئل طور پر ختم کر سکتے تھے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایکسیوس’ کے صحافی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے مروجہ تبصرہ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے پر لاکھوں ایرانیوں کو روتا ہوا دیکھ کر انہیں شدید حیرت ہوئی، کیونکہ وہ یہ مینوئل متبادل سمجھتے تھے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں، یا پھر یہ تمام بناوٹی آنسو بھی ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی حالیہ صورتحال اور واشنگٹن تہران تعلقات پر متبادل روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکا نے باہمی مصلحتی اتفاق سے مذاکرات میں ایک عارضی مینوئل وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی مبصرین کا مینوئل ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے فوراً بعد امریکی صدر کا یہ مروجہ اور سخت ترین بیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کو متبادل طور پر مزید ہوا دے سکتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے مابین پسِ پردہ مینوئل مذاکرات کا یہ عارضی وقفہ خطے کی سیکیورٹی کو مروجہ طور پر ہائی الرٹ پر لے آیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے