ذرائع کے مطابق: امریکی وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کردہ پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا ہے کہ ایران کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ہیگسیٹھ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایک ”کھلی کھڑکی“ موجود ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق: یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بحری گزرگاہوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ ہیگسیٹھ، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ ایران پر سخت دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے آپشن کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق: دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بیان تہران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر وہ اپنی پالیسیوں میں لچک دکھائے تو امریکہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہیگسیٹھ نے واضح کیا کہ ایران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مزید اقتصادی اور سیاسی تنہائی سے بچا جا سکے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یہ ’کھڑکی‘ ہمیشہ کھلی نہیں رہے گی اور ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔


