ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نیوی نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جانب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان اتوار کے روز جاری کیا گیا، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واضح پیغام دیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت غیر فوجی جہازوں کے لیے کھلی ہے، تاہم اس کی نگرانی “سمارٹ کنٹرول اور مینجمنٹ” کے تحت کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مخصوص ضوابط کے مطابق تجارتی اور غیر عسکری جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہے، لیکن کسی بھی فوجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز میں اپنی بحری موجودگی بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ ایران نے ان اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے مترادف قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں روزانہ بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں اور علاقائی سیکیورٹی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس بیان کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔


