چین نے منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں سزا پانے والے ایک فرانسیسی شہری کو سزائے موت دے دی، جس کے بعد فرانس اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 62 سالہ شہری کو 2010 میں بڑے پیمانے پر منشیات کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ وہ تقریباً 20 سال سے جیل میں قید تھا۔ چینی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے مطابق تمام افراد کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور کسی بھی ملزم کو اس کی شہریت کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جاتی۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے اس اقدام پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے دفاعی وکیل کو آخری عدالتی سماعت تک رسائی نہیں دی گئی، جو اس کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فرانس نے اس سے قبل بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سزا معاف کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔
چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کے جرائم کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ ہیں اور ایسے جرائم پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین میں ہر سال بڑی تعداد میں سزائے موت دی جاتی ہے، تاہم اس کے اعداد و شمار مکمل طور پر عوامی سطح پر جاری نہیں کیے جاتے۔


