وفاقی بجٹ 2026-27؛ صحت کے شعبے کے لیے 53.3 ارب روپے مختص، جڑواں شہروں (اسلام آباد، راولپنڈی) کے لیے نئے منصوبے تجویز

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) سمیت مختلف طبی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 53.3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

بجٹ کی تقسیم اور غیر ملکی امداد:

بجٹ دستاویزات کے مطابق، وزارتِ قومی صحت خدمات (Ministry of National Health Services) کے لیے مختص کردہ 22 ارب روپے میں سے 20.7 ارب روپے مقامی وسائل سے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 1.3 ارب روپے غیر ملکی امداد کے ذریعے حاصل ہوں گے۔

پی ایس ڈی پی (PSDP) کے تحت مجموعی سوشل سیکٹر ترقیاتی بجٹ (187.2 ارب روپے) کا 2.2 فیصد حصہ صحت اور غذائیت کے شعبے کو دیا گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے ابتدائی بجٹ (16.5 ارب روپے) کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔

جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے اہم منصوبے:

دل کے امراض پر ریسرچ: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز (NIHD) راولپنڈی میں امراضِ قلب پر تحقیق اور بچاؤ کے اقدامات کے لیے 1.5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

ہاسپٹل اپ گریڈیشن: آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) اور NIHD کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

میڈیکل سٹی اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کو اسلام آباد میں مجوزہ ‘میڈیکل سٹی’ قائم کرنے کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) سے زمین خریدنے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے تحفظات:

دوسری جانب، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) نے اس بجٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایم اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق، بجٹ کا 70 فیصد حصہ صرف عمارتوں کی تعمیر اور بڑے اسپتالوں پر لگایا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں جاری غذائی بحران (Nutrition Crisis)، بیماریوں کی روک تھام اور وبائی امراض (جیسے ایم پاکس، ڈینگی، پولیو، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس سی) کے کنٹرول کے بنیادی نظام کو شدید فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے