جنوبی کوریا کی سرکاری توانائی کمپنی "کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی” نے پاکستان میں ایک ارب ڈالر کے انرجی منصوبوں میں رکاوٹوں اور ریگولیٹری اداروں کے غیر منصفانہ رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست مداخلیت کی اپیل کی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کم من یونگ نے وزیراعظم کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی گزشتہ 10 سالوں سے خیبر پختونخوا میں سوات کے مقام پر 467 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو پاور منصوبوں (229 میگاواٹ اسرٹ کدم اور 238 میگاواٹ کلام اسرٹ) پر کام کر رہی ہے اور 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم زمین پر خرچ بھی کر چکی ہے، مگر اب حتمی مرحلے میں ان منصوبوں کو بلاجواز روکا جا رہا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نیپرا میں جولائی 2023 میں ٹیرف کی منظوری کے لیے عوامی سماعت مکمل ہو چکی تھی، لیکن 3 سال گزرنے کے باوجود ٹیرف کا فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔ نیپرا اپیلٹ ٹریبیونل کی جانب سے فیصلے کی واضح ہدایات اور جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے باوجود معاملہ جوں کا توں ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ منصوبوں کو آئندہ کے توانائی منصوبے سے نکالنے کے بعد ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شدید خطرے میں پڑ گئی ہے، لہٰذا وزیراعظم اس معاملے کا نوٹس لے کر ٹیرف کا تعین اور پاوٴر پالیسی 2015 کے تحت حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔