قومی اسمبلی میں ٹیلی کام ترمیمی بل منظور؛ آپٹیکل فائبر اور ٹاورز کے لیے جگہ نہ دینے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ

منظور شدہ ترمیمی بل کے مطابق، اب ملک میں کام کرنے والی تمام لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو یہ مخلصانہ حق حاصل ہوگا کہ وہ نیٹ ورک کی بہتری کے لیے جہاں چاہیں آپٹیکل فائبر بچھا سکیں گی۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اس بل کو حتمی توثیق کے لیے جلد ہی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

اس نئے ترمیمی بل میں یہ شق لازمی قرار دی گئی ہے کہ تمام نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کی تنصیب کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔ اگر کوئی نجی گھر کا مالک، کرائے دار، یا عوامی و نجی ادارہ کسی بھی موبائل کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا سگنل ٹاور لگانے کے لیے جگہ دینے سے انکار کرے گا، تو اس پر 5 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد ملک بھر کے شہری و مضافاتی علاقوں میں ڈیجیٹل نیٹ ورک کو تیز تر بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے