ملک بھر میں باقاعدہ طور پر سیلابی سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی سندھ کے بیراجوں پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری شدید قلت کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم، ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ زیریں سندھ کے آخری علاقوں (ٹیل اینڈ) کے آبادگار اب بھی پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور ان کے کھیت سوکھے پڑے ہیں۔
سندھ حکومت تاریخی طور پر کھرپ کے ابتدائی اور عروج کے سیزن میں ارسا اور پنجاب کے تنازع، متنازع لنک کینالز کی اور ڈیموں میں پانی بھرنے کی ترجیحات پر احتجاج کرتی رہی ہے۔ رواں سیزن کے وسط جون میں کوٹری بیراج پر پانی کی قلت 65 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس کی وجہ تربیلا ڈیم میں واپڈا کی تعمیراتی تاخیر اور ارسا کی جانب سے بروقت پانی کا اخراج نہ کرنا بتائی گئی۔
تاہم، اب جبکہ بیراجوں پر آمد بحال ہو چکی ہے، زیریں سندھ میں بدین، سجاول اور ٹھٹہ کے کاشتکاروں کو پانی نہ ملنا صوبائی محکمہ آبپاشی کے انتظامی امور پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ نہروں کی بھال، اپر ریپیرین کے غیر قانونی ڈائریکٹ آؤٹ لیٹس اور غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے چھوٹے کاشتکار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوبے کے اندر پانی کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ آبپاشی کا آڈٹ اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔