گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع ٹانک کے علاقے منجی خیل میں مشترکہ پولس و سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے میں 1300 کلوگرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفس میں سیکیورٹی بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ اس بزدلانہ حملے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغان سرزمین اور وہاں غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کو پاکستان بالخصوص کے پی میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے شہید اور زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے ریلیف پیکج بڑھانے اور وفاقی سطح پر تمام سفارشات پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔