امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور معرکے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے اور مراکز دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، یہ امریکی فوجی اڈے جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت آتے ہیں، لاجسٹکس، سپلائی، ایندھن کی فراہمی، جاسوسی اور اہم جنگی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایران کی جانب سے ان اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی فوج کے علاقائی وجود اور سیکیورٹی نیٹ ورک کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
- بحرین: امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے اور بحری افواج کی مرکزی کمان کا صدر دفتر بحرین میں واقع ہے۔ بحرین کی گہری بندرگاہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور دیگر جنگی جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
- قطر: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ العدید ایئر بیس قطر میں قائم ہے، جہاں امریکی مرکزی کمان کے اہم یونٹس، خصوصی آپریشنز اور 379 ویں فضائی ونگ تعینات ہیں۔
- کویت: کویت میں کیمپ عریفجان میں امریکی فوج کی مرکزی کمان کا فارورڈ ہیڈکوارٹر قائم ہے، جبکہ علی السالم ایئر بیس فضائی نقل و حمل اور ڈرون کارروائیوں کا اہم مرکز ہے۔
- اردن: اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی جنگی طیارے، ریپر ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام نصب ہیں۔
- متحدہ عرب امارات: امارات میں الظفرہ ایئر بیس امریکی 380 ویں فضائی ونگ اور جدید فضائی جنگی تربیت کا مرکزی مرکز ہے۔
- سعودی عرب: ریاض کے قریب پرنس سلطان ایئر بیس میں امریکی 378 ویں فضائی ونگ کے اہلکار تعینات ہیں۔
- عراق: شمالی عراق میں اربیل ہوائی اڈے اور الحریر ایئر بیس پر امریکی اور اتحادی افواج داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے موجود ہیں۔