بھارت میں دو دہائیوں کے عوامی احتجاج، اہم تحریکوں اور مظاہروں کا جائزہ

بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران متعدد تاریخی اور بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جنہوں نے ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی جمہوری تاریخ میں عوامی تحاریک نے ہمیشہ پالیسی سازوں کو فیصلوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا ہے۔ ان تحاریک میں لوک پال بل اور کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی 2011 کی تاریخی تحرک، شاہین باغ اور شہریتا ترمیم ایکٹ (CAA/NRC) کے خلاف احتجاج، اور 2020-2021 کی تاریخی کسان تحریک شامل ہیں جس نے حکومت کو متنازع زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔

اس کے علاوہ اینٹی ریپ اور خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والے ملک گیر مظاہرے (جیسے 2012 کا دہلی گینگ ریپ واقعہ)، طلباء کی تحاریک اور اگنی پتھ ملٹری ریکروٹمنٹ اسکیم کے خلاف احتجاج بھی اس دَور کے اہم واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ بیس سالوں کے یہ عوامی احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت میں اپوزیشن کے کمزور ہونے کے باوجود سڑکوں پر عوامی مزاحمت اور سول سوسائٹی کا کردار جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی فعال اور مؤثر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے