اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے مالی سال 2025-2026 میں 16 ارب ڈالر سے زائد کا خطیر بیرونی قرضہ حاصل کیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری حقائق سے یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک کو ملنے والی اس مجموعی بیرونی مالی معاونت میں کمرشل و دیگر قرضوں کا حصہ تقریباً 99 فیصد رہا ہے جبکہ بیرونی گرانٹس (امدادی رقوم) نہ ہونے کے برابر رہی ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس حاصل کردہ خطیر رقم کا 79 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں اور بجٹ خسارہ پورا کرنے پر خرچ ہوا ہے، جس سے معیشت پر مینوئل سپلائی چین بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مالی سال کے دوران پاکستان کو گرانٹس کی صورت میں محض 149.53 ملین ڈالر موصول ہو سکے۔ حاصل کردہ مجموعی بیرونی معاونت میں سے 12.7 ارب ڈالر مروجہ کلاؤڈ پراجیکٹ فنانسنگ اور بجٹ سپورٹ کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ ملک کے حقیقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض 3 ارب 43 کروڑ ڈالر مختص کیے جا سکے ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا مصلحتی موقف ہے کہ ترقیاتی کاموں کے بجائے بجٹ کو سنبھالنے کے لیے مینوئل پوزیشن پر اتنے بڑے قرضے لینا مستقبل میں ملکی خزانے پر کڑا تزویراتی بوجھ ڈالے گا اور متبادل فریم ورک کو کچل دے گا۔