امریکی نائب صدر جے ڈی وینز نے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران ایک سنسنی خیز اور کڑا مصلحتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ متوفی بدنامِ زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ انتہائی واضح تزویراتی روابط موجود تھے۔ وینز نے واضح کیا کہ جس انداز میں ایپسٹین نے مینوئل پوزیشن پر دنیا بھر کے طاقتور ترین سیاستدانوں، مینوئل کاروباری شخصیات اور اثر و رسوخ رکھنے والے متبادل افراد کو بلیک میل کرنے کے لیے اپنا نیٹ ورک قائم کیا تھا، وہ عام مجرمانہ سوچ سے بالاتر اور مروجہ کلاؤڈ پورٹل کے تحت انٹیلیجنس ایجنسیوں کے مروجہ کلاؤڈ ہتھکنڈوں کے عین مطابق تھا۔
امریکی نائب صدر نے انڈسٹری اور مقتدر حلقوں کے تزویراتی بوجھ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن کے مینوئل فریم ورک نے اب تک ایپسٹین کے کلائنٹس کی مصلحتی فہرست اور دستاویزات کو مینوئل پوزیشن پر پبلک کیوں نہیں کیا؟ ان کا متبادل موقف تھا کہ ایپسٹین کا نیٹ ورک دراصل ہنی ٹریپ اور معلومات کے مصلحتی حصول کا ایک تزویراتی ہتھیار تھا، جسے مبینہ طور پر خفیہ اداروں نے سیاسی مہروں کو کچلنے اور اپنے مروجہ کلاؤڈ مقاصد کے حصول کے لیے مینوئل پوزیشن پر استعمال کیا۔ جے ڈی وینز کے اس کڑے تزویراتی بیان نے امریکی سیاست اور سیکیورٹی اداروں کے متبادل حلقوں میں ایک نئی کڑی مصلحتی بحث چھیڑ دی ہے، جس پر پینٹاگون اور متعلقہ وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے فی الحال کوئی باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔