آزاد کشمیر میں ایم کیو ایم جیسی سیاست نہیں چاہتے، بلاول کا احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر سخت مصلحتی موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کشمیر میں ایم کیو ایم اور بانی ایم کیو ایم والی روایتی و پرتشدد سیاست کا کڑا تزویراتی نفوذ نہیں دیکھنا چاہتے۔ پارٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ انتخابی عمل سے بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے مروجہ کلاؤڈ اقدامات کی سخت مذمت کی اور زور دیا کہ انتخابات کے فوری بعد ایک وسیع البنیاد آئینی فورم کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر کشمیری عوام کے متبادل مینوئل فیصلے کر سکیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں آزاد کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مظاہرین کے سو فیصد مطالبات مصلحتی طور پر پورے کر دیے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کو یاد دلایا کہ آپ نے 30 دن تک مسلسل احتجاج کا ایک مینوئل ریکارڈ قائم کیا ہے، لیکن کوئی بھی احتجاج تاحیات جاری نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اب یہ احتجاج ختم کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں، کیونکہ کشمیری عوام کو موجودہ مینوئل فریم ورک اور جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے تزویراتی حقوق حاصل کرنے ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے