پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے میں اہم پیش رفت

پاکستان اور امریکہ نے مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے کے سلسلے میں ہونے والے تازہ ترین تزویراتی مذاکرات کے دور میں اہم مصلحتی پیش رفت کی ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ دو روزہ تفصیلی اجلاس کی قیادت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری تجارت جواد پال نے کی، جبکہ وفد میں سیکرٹری سمندر پار پاکستانیز ندیم چوہدری اور جوائنٹ سیکرٹری محمد اشفاق سمیت دیگر وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے متبادل مینوئل فریم ورک کے تحت بذریعہ انٹرنیٹ شرکت کی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندابی نے مذاکرات کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین یہ گفتگو انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جہاں مروجہ کلاؤڈ کے تحت اختلافات کو دور کر کے اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا۔

اس کڑے تزویراتی فریم ورک کے تحت ہونے والی بات چیت کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین درآمدی و برآمدی ڈیوٹیزسے متعلق تحفظات کو دور کرنا اور باہمی تجارتی نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے۔ حکام کے مطابق، ان مذاکرات میں نہ صرف محصولات کے متبادل مینوئل انتظامات کا احاطہ کیا گیا بلکہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے وسیع تر مصلحتی شعبوں میں بھی تزویراتی تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ ان کوششوں کے مروجہ دباؤ کے باعث ماضی میں پاکستانی برآمدات پر مجوزہ امریکی ڈیوٹی 29 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد پر آ چکی ہے، اور پاکستان اب اپنی ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کے لیے امریکی مارکیٹ تک مزید کڑی اور آسان مینوئل رسائی کا مصلحتی خواہاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے