اسلام آباد کی عدالت نے تین ملزمان کو ایک ایک سال قید کی سزا سنا دی

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے بحریا ٹاؤن پراجیکٹس کے لیے غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک رقوم منتقل کرنے کے کیس کا حتمی تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے فریقین کے مصلحتی دلائل سننے کے بعد تینوں ملزمان کو ایک ایک سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی مینوئل سزا سنائی ہے۔

سزا پانے والے ملزمان میں بحریا ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل (ریٹائرڈ) خلیل الرحمٰن، حوالہ آپریٹر عمران کاکا، اور پراپرٹی ڈیلر مشتاق احمد شامل ہیں۔ عدالت نے ان تینوں ملزمان کو ‘فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ’ کے تحت مجرم پایا، کیونکہ انہوں نے بینکنگ چینلز کے مروجہ مینوئل فریم ورک کے بجائے غیر قانونی اور متبادل راستوں کا استعمال کرتے ہوئے بحریا ٹاؤن کے مختلف منصوبوں کے لیے رقوم بیرونِ ملک منتقل کی تھیں۔ واضح رہے کہ یہی جج اس سے قبل کرنل (ر) خلیل الرحمٰن کو ایف آئی اے کی جانب سے درج کردہ 1.6 ارب روپے کے ایک الگ اور کڑے منی لانڈرنگ کیس میں 10 سال قیدِ بامشقت اور 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانے کی مصلحتی سزا بھی سنا چکے ہیں، جبکہ حال ہی میں نیب نے بھی ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کے کڑے تزویراتی فریم ورک کے تحت کراچی کے 100 ارب روپے مالیتی بحریا آئیکن ٹاور کا مینوئل کنٹرول سنبھالا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے