رپورٹ کے مطابق، کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں جائیداد کے تنازع پر آئی فون اور چند ہزار روپے کے لالچ میں سنگدل بیٹوں کی جانب سے سگے والد کو قتل کروانے کے لرزہ خیز کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوسرے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، تازہ ترین کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ملزم جمشید نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس نے اپنے بڑے بھائی کو والد کے قتل کی باقاعدہ اجازت دی تھی، کیونکہ مقتول والد اس کے بڑے بھائی اعجاز پر شدید تشدد کیا کرتا تھا۔
اس سنگین واردات کے مروجہ پسِ منظر کے مطابق، پولیس نے اس سے قبل ابراہیم حیدری میں کارروائی کرتے ہوئے مقتل اقبال کے بڑے بیٹے اعجاز اور اس کے مبینہ شوٹر دوست شیراز کو گرفتار کیا تھا۔ تفتیش میں یہ ہولناک حقیقت سامنے آئی تھی کہ سگے بیٹے اعجاز نے جائیداد کے تنازع پر اپنے دوست شیراز کو ایک عدد آئی فون اور 15 ہزار روپے نقد کا لالچ دے کر اپنے ہی والد کو راستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا تھا، جس پر ملزم شیراز نے 23 جون کو اندھا دھند فائرنگ کر کے اقبال کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واردات میں ملوث دونوں بھائیوں سمیت تینوں مرکزی ملزمان کو حراست میں لے کر کڑی قانونی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔