حادثے کا شکار ہونے والے اس کم عمر محنت کش نوجوان کی شناخت 15 سالہ اصغر کے نام سے ہوئی ہے، جس کا آبائی تعلق پنجاب کے علاقے شجاع آباد سے تھا۔ متوفی حادثے کے وقت اپنے ماموں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر یو پی موڑ کی جانب جا رہا تھا کہ اس دوران یہ جان لیوا حادثہ پیش آیا۔
متوفی کے ماموں غلام فرید نے بتایا کہ اصغر پیشے کے اعتبار سے کارپینٹر (بڑھئی) کا کام کرتا تھا۔ تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی نے پہلے دیگر موٹر سائیکلوں کو ہٹ کیا اور پھر ان کی بائیک کو شدید ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں اصغر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اصغر اپنے تین بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور کم عمری کے باوجود محنت مزدوری کر کے اپنے گھر کا واحد سہارا بنا ہوا تھا۔ پولیس نے گاڑی کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔