کراچی کے قدیم اور تاریخی علاقے لیاری میں نوجوانوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے قائم کی جانے والی 5 کروڑ روپے مالیت کی عوامی لائبریری (علمی مرکز) شدید انتظامی غفلت اور لاپرواہی کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔
مقامی ذرائع اور اہلیانِ لیاری کے مطابق، انتظامیہ کی عدم توجہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عظیم علمی مرکز پر اب منشیات فروشوں اور نشئی افراد نے مبینہ طور پر قبضہ جما لیا ہے، جس کی وجہ سے یہ اہم تعلیمی اثاثہ اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے۔کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ لائبریری لیاری کے غریب اور ہونہار نوجوانوں کو پڑھائی اور تحقیق کے لیے ایک پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن اب یہ جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن چکی ہے۔
لائبریری کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جبکہ قیمتی فرنیچر اور کتابیں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو رہی ہیں۔
علاقے کے مکینوں، سول سوسائٹی اور طلبہ نے سندھ حکومت، محکمہ ثقافت اور بلدیاتی انتظامیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لائبریری کو منشیات فروشوں کے قبضے سے فوری واگزار کرایا جائے۔
انہوں نے اس قیمتی قومی اثاثے کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی اور اس تباہی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے تاکہ لیاری کے نوجوانوں کو ان کا تعلیمی حق واپس مل سکے۔


