وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی، جو دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے پرتپاک استقبال پر صدر شی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک-چین اسٹریٹیجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور عالمی حالات میں اس آہنی دوستی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات بشمول "ون چائنا پالیسی” پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور ملکی خودمختاری و معاشی استحکام کے لیے چین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی دوراندیش قیادت اور ان کے پیش کردہ عالمی اقدامات، جیسے بیلٹ اینڈ روڈ (BRI)، گلوبل ڈیولپمنٹ اور ریجنل امن کے لیے چار نکاتی تجویز کی تعریف کی۔ شہباز شریف نے سی پیک (CPEC) کی ترقی کو آگے بڑھانے اور چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کو ملکی "اڑان پاکستان” پروگرام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صنعتکاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی میں تعاون بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب کو بھی دونوں ممالک کے گہرے تعاون کا مظہر قرار دیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان اور چین کے درمیان قائم "ناقابلِ شکست روایتی دوستی” پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین اپنی ہمسایہ پالیسی میں پاکستان کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس تاریخی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے باہمی تعلقات کو عملی اور مستقبل پر مبنی تعاون کے ایک نئے دور میں تبدیل کرنے پر مکمل اتفاق کیا۔


