آسٹریلیا ٹوڈے (The Australia Today) کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر پناہ دے رکھی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے حوالے سے شائع اس رپورٹ میں امریکی حکام کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے متعدد فوجی طیارے، جن میں جاسوسی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے والا RC-130 طیارہ بھی شامل ہے، راولپنڈی میں واقع ‘نور خان ایئر بیس’ پر منتقل کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران نے یہ اقدام اپنے فوجی اثاثوں کو ممکنہ امریکی حملوں سے بچانے کے لیے کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایک سینیئر پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ نور خان ایئر بیس شہر کے قلب میں واقع ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی غیر معمولی نقل و حرکت یا طیاروں کے بیڑے کو عوام کی نظروں سے چھپانا ناممکن ہے۔ انہوں نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف ایک سہولت کار کے طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے کچھ سویلین طیارے افغانستان بھی منتقل کیے ہیں تاکہ انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک "غیر مستحکم جنگ بندی” کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور ساتھ ہی چین کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ چین اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر ہے اور وہ ایران کے ساتھ بھی قریبی اقتصادی و فوجی تعلقات رکھتا ہے۔ بیجنگ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے لیے پاکستان کے کردار کی عوامی سطح پر تعریف کی ہے۔ تاہم، تازہ ترین الزامات نے پاکستان کو ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔


