ہینٹا وائرس (Hantavirus) کے پھیلاؤ کا شکار ہونے والا ایک کروز شپ "ایم وی ہونڈیئس” (MV Hondius) اتوار کے روز اسپین کے جزائر کینری پہنچ گیا ہے، جہاں سے تقریباً 150 مسافروں کو نکال کر ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق، جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ہالینڈ کے جھنڈے والے اس جہاز پر گزشتہ ہفتوں کے دوران ہینٹا وائرس کے باعث تین مسافر (ایک ہالینڈ کا جوڑا اور ایک جرمن خاتون) جاں بحق ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئس خود اس وقت اسپین میں موجود ہیں تاکہ مسافروں کے انخلاء کے عمل کی نگرانی کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ "یہ کورونا وائرس جیسی صورتحال نہیں ہے” اور عام عوام کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
جہاز کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اسے سمندر میں ہی ٹھہرایا گیا ہے۔ مسافروں کو چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر کے نکالنے کے لیے ساحل پر خصوصی سفید خیمے لگائے گئے ہیں۔ انخلاء کے فوراً بعد مسافروں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے ان کے ملک روانہ کر دیا جائے گا۔ اسپین کے وزرائے داخلہ اور صحت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسافروں کا مقامی آبادی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور ان کی منتقلی کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس جہاز پر ہینٹا وائرس کی ایک نایاب قسم "اینڈیز وائرس” کی تصدیق ہوئی ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے جہاز پر موجود تمام افراد کو "ہائی رسک کانٹیکٹ” قرار دیا ہے۔ سنگاپور، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک کے حکام ان مسافروں کی ٹریکنگ کر رہے ہیں جو اس سے قبل جہاز سے اتر چکے تھے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔


