ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے، جہاں سیاسی مخالفین کی سوچ اور بیانیے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ سیاسی تبصروں میں یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ مخصوص سیاسی حلقوں کے اعصاب پر "پاکستان” کا استحکام اور "فیلڈ مارشل” جیسی اصطلاحات اس قدر سوار ہو چکی ہیں کہ وہ دن رات انہی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے قومی سلامتی کے بیانیے اور تاریخی عسکری القابات کو خوف کی علامت بنا کر پیش کرنا سیاسی پختگی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
اس حوالے سے ناقدین کا موقف ہے کہ ملک کو اس وقت جس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سیاست دانوں کو ذاتی اور گروہی خوف سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مخالفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سوچ میں وسعت لائیں اور "بڑے ہونے” کا ثبوت دیں، کیونکہ محض خوابوں میں ڈرنے اور فرضی دشمنیاں پالنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک سیاسی طبقہ ماضی کے کرداروں اور ریاستی بیانیے کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہے گا، تب تک ملک میں فکری بلندی اور حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں چھڑی ہے جب ملک کو معاشی اور تزویراتی محاذوں پر سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔


