غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے "گلوبل صمود فلویٹلا” (عالمی سمد فلوٹیلا) کے رضاکاروں نے اسرائیلی حراست کے دوران انسانیت سوز سلوک اور بدترین تشدد کے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق: ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ‘انٹرنیشنل کمیٹی ٹو بریک دی سیج آن غزہ’ (آئی سی بی ایس جی) کے سربراہ یوسف اجیسا نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی سمندر میں پکڑے گئے امدادی مشن کے 177 رضاکاروں کو اسرائیلی فوج نے حراست کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ رضاکاروں کے بیانات کے مطابق، انہیں نہ صرف گھسیٹا گیا، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر مارا پیٹا گیا، بلکہ خواتین اور مرد رضاکاروں کو جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے جیسے سنگین واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
عالمی ردِعمل پر تشویش: یوسف اجیسا نے ان واقعات پر عالمی برادری، بالخصوص یورپی یونین کی خاموشی پر شدید حیرت اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ اسے کسی قسم کے احتساب کا ڈر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غیر مسلم اور غیر عرب رضاکاروں کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو غزہ اور مغربی کنارے کے عام فلسطینیوں کی حالتِ زار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
مطالبات اور پسِ منظر: کمیٹی نے تاحال اسرائیلی قید میں موجود دو رضاکاروں، برازیلین شہری تھیاگو ایویلا اور سویڈش شہری سیف ابو کشک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر موت کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 29 اپریل 2026 کو اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری بیڑے کو بین الاقوامی پانیوں میں، غزہ سے 600 ناٹیکل میل دور، طاقت کے زور پر روک لیا تھا۔ یہ امدادی مشن غزہ کے 2.4 ملین محصور افراد کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روانہ کیا گیا تھا جو گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔


