پاکستان اور بنگلادیش نے منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مشترکہ طور پر لڑنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کے ذریعے دونوں ممالک نے سیکیورٹی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور داخلی سلامتی کے حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے ڈھاکہ میں اپنے بنگلادیشی ہم منصب صلاح الدین احمد سے ملاقات کی، جس کے دوران اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ ملاقات میں دونوں وزرائے داخلہ نے باہمی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزارتِ داخلہ کی سطح پر ایک "جوائنٹ ورکنگ گروپ” تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا جو سیکرٹری لیول پر معاملات کی نگرانی کرے گا۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک منشیات کی نقل و حمل اور سپلائی لائنز کو توڑنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ کریں گے اور منشیات کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہترین انتظامی تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے۔ ملاقات کے دوران نہ صرف منشیات بلکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، سائبر کرائم اور منظم مالیاتی فراڈ جیسے سنگین مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر محسن نقوی نے بنگلادیش کو ‘سیف سٹی پروجیکٹ’ میں مکمل تکنیکی تعاون کی پیشکش کی اور بنگلادیشی پولیس افسران کے لیے پاکستانی اکیڈمیز میں ٹریننگ پروگرامز کی پیشکش بھی دہرائی، جسے بنگلادیشی حکام نے سراہا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان بدلتے ہوئے سفارتی تعلقات کا ایک اہم تسلسل ہے، جو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے تجارتی حجم 1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیکیورٹی اور انتظامی سطح پر ہونے والا یہ حالیہ رابطہ نہ صرف جرائم کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔


