اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سرحد کے قریب اپنی فضائیہ اور توپ خانے (توپ خانہ) کا استعمال کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فورسز نے چند ایسے ’دہشت گردوں‘ کی شناخت کی تھی جو اسرائیلی سرحد کی جانب اس انداز میں بڑھ رہے تھے جس سے سکیورٹی فورسز کو ’فوری خطرہ‘ (فوری خطرہ) لاحق تھا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ان افراد کو روکنے اور خطرے کو ٹالنے کے لیے بروقت فوجی کارروائی کی گئی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ اگرچہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کر رہے ہیں، لیکن انہیں کسی بھی مشکوک نقل و حرکت یا حملے کی صورت میں ’اپنے دفاع کا حق‘ حاصل ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے جیٹ طیاروں اور توپ خانے نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے مبینہ طور پر یہ خطرہ پیدا ہو رہا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی آزادانہ ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب لبنان کی جانب سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم لبنانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی جنگ بندی کے اس نازک معاہدے کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور اقوام متحدہ کے نمائندے اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس طرح کے واقعات امن کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 16 اپریل سے شروع ہونے والی اس 10 روزہ جنگ بندی کا مقصد مستقل امن کی راہ ہموار کرنا تھا، لیکن فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی فضا اب بھی برقرار ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ یہ جزوی تصادم ایک بار پھر بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔


