امریکا میں سوشل میڈیا پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو باضابطہ وضاحت جاری کرنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں ٹرمپ کی عوامی سرگرمیوں میں کمی اور میڈیا سے غیر معمولی دوری کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبریں تیزی سے وائرل ہوئیں کہ وہ کسی طبی مسئلے کا شکار ہیں یا اسپتال میں داخل ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان تمام افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور ان کی صحت سے متعلق پھیلائی جانے والی معلومات میں کوئی صداقت نہیں۔
انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے پھیلنے والی اطلاعات اکثر غلط فہمی پیدا کرتی ہیں، اور عوام کو چاہیے کہ مستند ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔ مزید برآں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرمپ اپنی سرکاری سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کی غیر موجودگی کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق عوامی شخصیات کی صحت سے متعلق افواہیں اکثر سیاسی ماحول میں تیزی سے پھیلتی ہیں، خاص طور پر جب معلومات کا فقدان ہو۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔


