امریکہ کے قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر نے آج اچانک استعفیٰ دے دیا، جس نے نہ صرف واشنگٹن میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سیاسی زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی استعفیٰ کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو اخلاقی طور پر سپورٹ نہیں کر سکتے۔

ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے لیے کسی فوری خطرے کی صورت نہیں رکھتا تھا، اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کے مضبوط امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی گئی۔ اُنہوں نے اپنے استعفیٰ میں امریکی عوام اور حکومت کے اندرونی فیصلوں پر شدید سوالات اٹھائے، اور واضح کیا کہ وہ ایسے اقدامات میں حصہ نہیں لینا چاہتے جو صرف غیر ملکی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ استعفیٰ امریکہ کی داخلی سیاست میں زبردست ہلچل پیدا کرے گا، خاص طور پر اُس وقت جب ریپبلکن پارٹی اور دیگر سیاسی حلقے ایران کے خلاف جنگ پر واضح اختلافات کا شکار ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ استعفیٰ امریکی عوام کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ غیر ضروری جنگیں نہ صرف انسانی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف بھی ہیں۔
یہ تاریخی لمحہ ثابت کرتا ہے کہ کچھ اعلیٰ حکام اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے خطرات مول لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ آج کا یہ استعفیٰ عالمی میڈیا اور سیاستدانوں کے لیے ایک شاکنگ اور سنجیدہ پیغام ہے، جو مستقبل میں امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔


