مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان، امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تقریباً 2500 میرینز پر مشتمل ایک مکمل میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی منظوری کے بعد یہ یونٹ خطے میں بھیج دیا گیا ہے جس میں ایمفیبیئس حملہ آور جہاز، حملہ آور ہیلی کاپٹر، توپ خانہ اور دیگر فوجی سازوسامان شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز میں 2500 امریکی میرینز کی تعیناتی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف دفاعی نہیں بلکہ ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری بھی ہو سکتا ہے۔
🔗https://t.co/MLGfYqppRU#StraitOfHormuz #Iran #USA #MiddleEast #BreakingNews #WarNews… pic.twitter.com/WkessqQZ4z
— Bakhabar News (@bakhabarnews_) March 14, 2026
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ، جسے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے، دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد لے جاتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد اطلاعات ہیں کہ اس روٹ پر شپنگ بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوجی حکمت عملی کے مطابق میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ ایک تیز رفتار حملہ آور فورس ہے جو سمندر سے براہ راست زمینی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ یونٹ عام طور پر تقریباً 2,200 سے 2,500 میرینز پر مشتمل ہوتا ہے، ساتھ ہی فضائی اور زمینی مدد کے لیے جدید ہتھیار بھی ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے ارد گرد بڑی تعداد میں اینٹی شپ میزائل سسٹم اور بحری بارودی سرنگیں تعینات کر دی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں بحری بارودی سرنگیں ہیں جو کسی بھی بڑے بحری بیڑے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اس تعیناتی کو ’ڈیٹرنس‘ قرار دے رہا ہے لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی ایمفیبیئس فورس کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے کہ اگر فضائی حملے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے تو زمینی کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی فوجی جھڑپ کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


