پاکستان کے پہلے سکھ کمیشنڈ آفیسر ہرچرن سنگھ کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ ان کی یہ ترقی پاک فوج میں اقلیتوں کے بلاامتیاز آگے بڑھنے کی روشن مثال قرار دی جا رہی ہے۔
بابا گرونانک کی دھرتی ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے ہرچرن سنگھ اس عہدے تک پہنچنے والے پہلے سکھ فوجی بن گئے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے کوہاٹ اور بعدازاں ننکانہ صاحب میں آباد ہوئے۔
ہرچرن سنگھ نے ایف سی کالج لاہور سے ایف ایس سی کے بعد ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی اور 27 اکتوبر 2007 کو پاک فوج کے پہلے سکھ کمیشنڈ آفیسر بنے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک اقلیتیں ملکی ترقی اور دفاع میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاک فوج میں ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افسران اور جوان وطن کے دفاع کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 22 غیر مسلم فوجیوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


