بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے معطل تجارتی معاہدے کے مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ فروری دو ہزار پچیس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جس میں باہمی تجارت اور ٹیرف سے متعلق تنازعات کو حل کرنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے عبوری دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ اور بھارت ایک بڑے تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ نے مودی کو ایک سخت اور ماہر مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے ان کی سفارتی مہارت کی تعریف بھی کی۔
واشنگٹن اور نئی دہلی نے سال دو ہزار تیس تک باہمی تجارت کو پانچ سو ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اگلے ہفتے امریکی تجارتی نمائندے بھارت کا دورہ کریں گے جہاں مذاکرات کے اگلے دور میں مارکیٹ تک رسائی اور ٹیرف کے مسائل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ بھارتی حکام کو امید ہے کہ اس عبوری معاہدے سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔