کراچی ہائی کورٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صوبے یا یونٹس ہر حالت میں بنیں گے۔ عامر نواز وڑائچ نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنی تکبرانہ باتیں اللہ کو بھی پسند نہیں ہیں، اور اگر اب محسن نقوی کے منہ سے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے کوئی بات سنی گئی تو ان کے استعفیٰ دیے بغیر کوئی وکیل یا کارکن گھر واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی سندھ کے عوام کو انڈر اسسٹیمیٹ کر رہے ہیں، اور اگر وہ وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں تو بنیں لیکن احتیاط سے کام لیں کیونکہ زیادہ جلدی میں انسان اکثر گر جاتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ سہی سلامت وزیراعظم بنیں کہیں سیاسی شہید نہ ہو جائیں اور انہیں اپنے منصب سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ دوسری جانب سیاسی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اقتدار کی رسہ کشی اور صوبوں کی تقسیم کی یہ سازشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران عوام کے اصل مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ایک طرف عوام مہنگائی اور بدتر حالات کا شکار ہیں، وہیں دوسری طرف نااہل حکمرانوں کا جاہلانہ رویہ، طاقتور مافیا کی پشت پناہی اور پولیس کا ظالمانہ دباؤ غریب عوام اور باشعور طبقے پر مسلط کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی ان کے اس عوام دشمن نظام کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔