سرینڈر ہونے کے لیے پیدا نہیں ہوا، کردار کشی کرنے والے یاد رکھیں، جھکوں گا نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

اسلام آباد میں جمعیت لائرز فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ بڑے وکلا کنونشن سے مینوئل پوزیشن پر خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے حالیہ متنازع بیانات پر قائم کڑے مصلحتی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی و تزویراتی حریفوں کو سخت اور کرارا مینوئل جواب دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور سے لے کر آج تک ملک میں مسلسل آمریت اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف ایک طویل تزویراتی جنگ لڑ رہے ہیں، لہٰذا ان کی مروجہ کلاؤڈ سیاسی تاریخ پر کوئی متبادل سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے حالیہ ریمارکس پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑے مصلحتی الفاظ میں کہا کہ جو لوگ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے میری سیاسی کردار کشی کرنا چاہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن اس مینوئل دباؤ کے سامنے جھک جائے گا یا سرینڈر کر جائے گا، تو وہ نادان اپنی یہ غلط فہمی دل سے نکال دیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ "یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرینڈر ہونے کے لیے پیدا نہیں کیا ہے”۔ انہوں نے وفاقی وزراء اور حکومتی مینوئل فریم ورک کے بوجھ کو کچلتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کی مصلحتی جدوجہد کسی بھی کڑے تزویراتی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر مینوئل پوزیشن پر جاری رہے گی اور وہ مظلوموں کے حقوق کے متبادل محاذ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے