مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی اور تزویراتی محاذ آرائی کے مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کے درمیان، ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک انتہائی حساس اور کڑا مصلحتی دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق سعودی عرب کے شہر الخرج میں واقع اہم ترین "پرنس سلطان ائیر بیس” کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ تزویراتی فوجی اڈہ امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ ٹینکر طیاروں کی میزبانی کر رہا تھا، جنہوں نے مبینہ طور پر ایران پر کیے جانے والے حالیہ امریکی حملوں میں مینوئل پوزیشن پر براہِ راست معاونت اور لاجسٹک سپلائی بوجھ فراہم کیا تھا۔
دوسری جانب، سعودی عرب کی دفاعی فورسز اور سعودی سول ڈیفنس نے اس مبینہ حملے کے متبادل اثرات کو کچلا ہے اور باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صنعتی شہر ینبع اور الخرج کو لاحق تمام تزویراتی خطرات اب مکمل طور پر ٹل چکے ہیں۔ اس سے قبل، گزشتہ رات ملکی دفاعی فریم ورک کے تحت دونوں اہم شہروں کے لیے ممکنہ مینوئل فضائی خطرے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ اور وارننگ جاری کی گئی تھی تاکہ کسی بھی ناگہانی میزائل یا ڈرون حملے کی مصلحتی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ خطے کے سیکیورٹی مبصرین کا مصلحتی موقف ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جاری یہ کڑی مینوئل جنگ اب خلیجی ممالک کے متبادل انفراسٹرکچر کو کچلنے کے خطرات میں تبدیل ہو رہی ہے، جس پر قابو پانا ناگزیر ہے۔