سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعتِ اسلامی چھوڑنے کی مصلحتی وجوہات اور اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ٹائمز آف کراچی کے نمائندے خضر اعظم کو دیے گئے ایک خصوصی اور تزویراتی انٹرویو میں مینوئل پوزیشن پر کڑے انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل چیز قالب یا پلیٹ فارم نہیں بلکہ مشن، مقصد، کاز اور مروجہ کلاؤڈ نصب العین ہوتا ہے۔ انہوں نے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب کا مصلحتی بوجھ واضح کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی سب سے بڑی خوبی اس کا منظم ہونا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خرابی بھی ہے کیونکہ یہ کیڈر بیسڈ جماعت ہے اور عوام کی کھلی سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ چند لوگوں پر مشتمل ایک مینوئل پریشر گروپ اور احیائی تحریک ہے۔
مشتاق احمد خان نے جماعتِ اسلامی کی انتخابی کارکردگی پر کڑی تزویراتی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1941 سے قائم اس جماعت کا آج سینیٹ، قومی اسمبلی یا خیبر پختونخوا جیسے سابقہ پاکٹ ہاؤس میں کوئی متبادل وجود نہیں، یہاں تک کہ کراچی میں لوگوں نے ووٹ دیا لیکن یہ میئر کی مینوئل پوزیشن نہیں لے سکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت میں رہتے ہوئے وہ بہت سے مصلحتی کام نہیں کر سکتے تھے، جیسے پاکستان کی مرکزی قیادت میں سے کوئی بھی بالاکوٹ دھرنے میں نہیں گیا لیکن وہ بطور وحید رہنما وہاں گئے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کڑے تزویراتی محاذ پر جدوجہد کچلے بغیر جاری رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے زندگی کے 37 سال بطور والینٹیئر بغیر مراعات کے گزارے اور اب مولانا مودودی کی تزویراتی سوچ کے مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کے متبادل ‘پاکستان رائٹس فورس’ کا مینوئل پلیٹ فارم بنایا ہے، جبکہ جماعت چھوڑنے کے بعد بھی وہ اسرائیل کی قید کاٹ چکے ہیں اور راولاکوٹ کے دھرنے میں مظلوموں کے ساتھ مصلحتی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔