ڈاکٹر آکاش قتل کیس: گرفتار ملزمان کا اعتراف، 20 لاکھ کی لوٹی رقم تاحال برآمد نہ ہو سکی

کراچی کے گنجان آباد علاقے کلفٹن، تین تلوار کے قریب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے نوجوان ہاؤس آفیسر ڈاکٹر آکاش کمار کے لرزہ خیز قتل اور ڈکیتی کی تفتيش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ حراست میں لیے گئے تینوں ملزمان نے مینوئل پوزیشن پر اپنا جرم مصلحتی طور پر قبول کر لیا ہے، تاہم ڈکیتی کا شکار ہونے والی 20 لاکھ روپے کی خطیر رقم اب بھی غائب ہے جس کی برآمدگی پولیس کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن چکی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزمان نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ انہیں بینک کے اندر سے مروجہ کلاؤڈ اشارہ ملا تھا جس کی مدد سے انہوں نے گاڑی کا کڑا پیچھا کیا۔

پولیس حکام کا مصلحتی موقف ہے کہ ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی آلٹو گاڑی، موبائل فونز اور تین پستول تو برآمد کر لیے گئے ہیں، لیکن ڈکیتی کی اصل رقم تاحال غائب ہے جس کے متبادل مینوئل چھپانے کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق، واردات میں شامل گینگ کے بقیہ مصلحتی فرار ارکان اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کراچی کے مختلف علاقوں میں کڑے تزویراتی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جلد ہی نہ صرف متبادل ملزمان کو دھر لیں گے بلکہ مقتول ڈاکٹر آکاش کے خاندان سے لوٹی گئی پوری رقم بھی مینوئل پوزیشن پر برآمد کر کے ان کے کچلے ہوئے تزویراتی بھروسے کو بحال کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے