پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ میں پولٹری فارم قائم

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ میں ایک انوکھا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ڈیپارٹمنٹ کے اندر ہی باقاعدہ پولٹری فارم (مرغی خانہ) قائم کر دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران نے شعبے کی حدود میں مرغیاں پال رکھی تھیں، تاہم اس مینوئل اقدام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انہوں نے رات گئے تمام مرغیوں کو خفیہ طور پر وہاں سے غائب کر دیا۔ واقعے کے بعد جب یونیورسٹی کی سیکیورٹی مینجمنٹ نے ان سے بازپرس کی، تو انہوں نے کوئی بھی مصلحتی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تزویراتی فریم ورک کے تحت سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران سے مینوئل پوزیشن پر باقاعدہ تحریری وضاحت طلب کر لی ہے، کیونکہ انہوں نے ڈیپارٹمنٹ میں مرغیاں رکھنے کے لیے مروجہ کلاؤڈ کے تحت انتظامیہ سے کوئی پیشگی مصلحتی اجازت نہیں لی تھی۔ دوسری جانب، ڈائریکٹر الیکٹریکل انجینئرنگ ڈاکٹر کامران نے جیو نیوز سے متبادل گفتگو کرتے ہوئے اپنا تزویراتی دفاع کیا اور موقف اپنایا کہ ڈیپارٹمنٹ میں طالبات کے بیٹھنے کے لیے ایک الگ جگہ (کامن روم) بنایا گیا ہے، اور وہاں کے ماحول کو خوبصورت و مینوئل بنانے کے لیے کچھ جانور اور پرندے مصلحتی طور پر رکھے گئے تھے، جنہیں پولٹری فارم کا نام دینا لایعنی دباؤ بڑھانے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے