مصطفیٰ کمال کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندرونی حلقوں میں تزویراتی و مصلحتی اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب پارٹی کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے چیئرمین خالد مقبول صدیقی کی حالیہ تقریر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے خالد مقبول صدیقی کے اس بیان کا مینوئل پوزیشن پر جواب دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ موجودہ قیادت کو ایجنسیوں نے ایم کیو ایم پر تھوپا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے طنزیہ سوال اٹھایا کہ اگر یہ سچ ہے تو کیا ایم کیو ایم پاکستان مکے یا مدینے میں بنی تھی، اور کیا یہ 22 اگست کے مروجہ کلاؤڈ واقعات کے بعد مینوئل فریم ورک کے تحت خودبخود وجود میں آ گئی تھی۔

مصطفیٰ کمال نے واشگاف مینوئل الفاظ میں دعویٰ کیا کہ کراچی کے لیے فیکٹریوں میں مصنوعی قیادتیں تیار کرنے کے تجربات مصلحتی طور پر ہمیشہ فیل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خالد مقبول صدیقی کو متبادل آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد سے پہلے ایم کیو ایم پاکستان صرف 4 سیٹوں کی ایک کچلی ہوئی پارٹی تھی، لیکن پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے انضمام اور ان کی مینوئل محنت کے بعد آج یہ 22 یا 23 سیٹوں والی تزویراتی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کڑا کہنا تھا کہ وہ وفاقی وزیر بن کر خاموشی سے سسک کر مرنے کے بجائے اپنی قوم کے مروجہ کلاؤڈ حقوق کے لیے جدوجہد کو ترجیح دیں گے، اور وہ یہ مصلحتی مقدمہ عوام کے سامنے لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے